Sunday, 6 March 2016

زندگى کی خقیقت

🍀 تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں اور وھاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرتے ھیں جو 75 منزلہ ھے..

🍀 ان کو 75 ویں منزل پر کمرہ ملتا ھے..

🍀 ان کو عمارت کی انتظامیہ باخبر کرتی ھے کہ یہاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں

🍀 لھذا ھر صورت آپ کوشش کیجیے کہ دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ھو

🍀 کیونکہ اگر دروازے بند ھوجائیں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوانا ممکن نہ ھوگا..

🍀 پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ھیں تو رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ھیں

🍀 مگر دوسرے دن وہ لیٹ ھوجاتے ھیں..

🍀 اب لفٹ کے دروازے بند ھو چکے تھے..

🍀 ان تینوں کو اب کوئی راہ نظر نہ آئی کہ کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 منزل پر ھے..

🍀 تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تو نہیں ھے تو یھاں سے ھی جانا پڑے گا..

🍀 ان میں سے ایک نے کہا..
" میرے پاس ایک تجویز ھے..

🍀 یہ سیڑھیاں ایسے چڑھتے ھوئے ھم سب تھک جائیں گے..

🍀 ایسا کرتے ھیں کہ اس طویل راستے میں ھم باری باری ایک دوسرے کو قصے سناتے ھوئے چلتے ھیں..

🍀 25 ویں منزل تک میں کچھ قصے سناوں گا
اس کے بعد باقی 25 منزل تک دوسرا ساتھی قصے سنائے گا
اور پھر آخری 25 منزل تیسرا ساتھی..

🍀 اس طرح ھمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ھوگا اور راستہ بھی کٹ جائے گا.. "

🍀 اس پر تینوں متفق ھوگئے..

🍀 پہلے دوست نے کہا..
" میں تمہیں لطیفے اور مذاحیہ قصے سناتا ھوں جسے تم سب بہت انجوائے کروگے..

🍀 " اب تینوں ھنسی مذاق کرتے ھوئے چلتے رھے..

🍀 جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا..
" اب میں تمہیں قصے سناتا ھوں مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقی ھونگیں.. "

🍀 اب 25 ویں منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے سناتے ھوئے چلتے رھے..

🍀 جب 50 ویں منزل تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا..
" اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ھوں.. "

🍀 جس پر پھر سب متفق ھوگئے اور غم بھرے قصے سنتے ھوئے باقی منزلیں بھی طے کرتے رھے..

🍀 تینوں تھک کر جب دروازے تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا..
" میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ھے کہ ھم کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ھی چھوڑ آئے ھیں.. "

🍀 یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ھوگئی..

🍀 اگر دیکھا جائے تو ھم لوگ بھی اپنی زندگی کے 25 سال ھنسی مذاق ' کھیل کود اور لہو و لعب میں گزار دیتے ھیں..

🍀 پھر باقی کے 25 سال شادی ' بچے ' رزق کی تلاش ' نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رھتے ھیں..

🍀 اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ھوتے ھیں تو زندگی کے باقی آخری سال بڑھاپے کی مشکلات ' بیماریوں ' ھوسپٹلز کے چکر ' بچوں کے غم اور ایسی ھی ھزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ھیں..

🍀 یھاں تک کہ جب موت کے دروازے پر پہنچتے ھیں تو ھمیں یاد آتا ھے کہ "چابی" تو ھم ساتھ لانا ھی بھول گئے..

🍀 رب کی رضامندی کی چابی..

🍀 جس کے بغیر یہ سارا سفر ھی بےمعنی اور پچھتاوے بھرا ھوگا..

🍀 اس لیے اس سے پہلے کہ آپ موت کے دروازے تک پہنچیں ' اپنی چابی حاصل کرلیں.

Saturday, 27 February 2016

آج کی بات

شخصیت پرستی، بت پرستی سے ذیادہ خطرناک ہے، کیونکہ بت کا دماغ نہیں ہوتا جو خراب ہو جائے، لیکن جب آپ انسانوں کی پوجا کرتے ہیں تو وہ فرعون بن جاتا ہے۔

Saturday, 15 August 2015

بےروزگاری کی وجوہات


بےروزگاری کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہیں. خاص کر جب تعلیم یافتہ طبقہ بےروزگار ہوتی ہیں. چونکہ پاکستان ابھی تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہ ہوسکا.اسلیئے یہاں پر بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے. سرکاری نوکری تو صرف قسمت والے کو ہی ملتی ہے.جو چیز بےروزگاری بہت حد تک کم کر سکتی ہے، وہ ہے، نئ فیکٹریاں بنانا،کارخانے لگانا،مختلف پروجیکٹس شروع کرنا وغیره. لیکن پاکستان کے کچھ بڑے شہروں کے علاوه جہاں پر فیکٹریاں ہیں، وہاں بےروزگاری کم ہے. باقی تو سارے ملک کا خال کسی سےچپا نہیں ہیں.
     پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہےکہ پہلے بےروزگاری کو کم کیا جائے اور یہ تب ہوگا جب کرپشن کنٹرول ہو جائے. اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پھر بھرتیاں میرٹ پر ہوگیں.جو جس پوسٹ کا صحیح معنوں میں قابل ہوگا وہ اُس کو مل جائے گا. پھر وہ محکمه ضرور ترقی کرےگا جس میں قابل لوگ ہوں. مگر ہمارے سیاستدان بھی بد عنوان ہیِں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استمال کرتے ہیں اور اس کے بعد رہی سہی کسر ہمارے سرکاری محکمے پورے کر دیتے ہیں جہاں غبن، رشوت اور بدعنوانی عام ہیں.جب تک ہمارے ملک سے چور بازاری اور بلیک مارکیٹنگ کا صحیح معنوں میں خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ہمارا سارا نظام اور معشیت لڑکھڑاتی رہےگی.
     کسی ملک کی ترقی کا فارمولا اتنا مشکل نہیں ہے بس لوگ مخلص ہونے چاہئے.جو کہ بدقسمتی سے پاکستان میں مخلص لوگوں کی بہت کمی ہے.ایک معمولی درجے کے نوکر سے لیکر اعلٰی درجے پر فائز افیسر تک سب کرپٹ ہوتے  ہے. جس کو جتنا موقع ملتا ہے، کرپشن کا بازار گرم کر لیتا ہے. یہی وجہ ہیں کہ آج بہت سے قابل انسان روزگار کی تلاش میں  گھومتے پھرتے ہے. مگر روزگار نہیں ملتا،  کیونکہ نہ تو اُس کا سفارش کرنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ ہی اسکے پاس اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ اُس پر کسی سے سرکاری نوکری خرید سکے.
     آخر میں ہم حکومت سے یہ درخواست کرتے ہے کہ نہ صرف بڑے شہروں میں بلکہ ہر جگہ یکساں  روزگار کے مواقع فراهم کریں، کیونکہ پاکستان کے لوگ بہت قابل ہیں، اگر کمی ہے تو صِرف موقع  نہ ملنے کی. اس وجہ سے بہت ٹیلینٹ ضائع ہو راھا ہے..