Friday, 25 March 2016

برکت کی صورتیں


برکت کو بیان نہیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور کسی ٹینشن کے سوا اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وہ دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم اللہ پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ سچی میں اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وہ کسی موٹی توند والے لکھ پتی سیٹھ کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ رہ جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وہ تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو اللہ نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس اللہ کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیادہ اور نتیجہ خیز کام کریں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضایع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیادہ افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیادہ آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’ٹِپ‘‘ ہے جو دس روپے بھی ہوسکتی ہے اور دس ہزار یا دس لاکھ بھی۔

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر کا چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ کیوں کہ نبیء مہربانﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی سادہ لوحی پر حیران ہی ہوا جاسکتا ہے۔

Wednesday, 23 March 2016

خقیقت

بڑے غصے سے میں گھر سے چلا آیا ..
اتنا غصہ تھا غلطی سے پاپا کے جوتے پہن کے نکل گیا
میں آج بس گھر چھوڑ دوں گا، اور تبھی لوٹوگا جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا ...
جب موٹر سائیکل نہیں دلوا سکتے تھے، تو کیوں انجینئر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں .....
آج میں پاپا کا پرس بھی اٹھا لایا تھا .... جسے کسی کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتے تھے ...
مجھے پتہ ہے اس پرس میں ضرور پیسوں کے حساب کی ڈائری ہوگی ....
پتہ تو چلے کتنا مال چھپا رکھاہے .....
ماں سے بھی ...
اسے ہاتھ نہیں لگانے دیتے کسی کو ..
جیسے ہی میں عام راستے سے سڑک پر آیا، مجھے لگا جوتوں میں کچھ چبھ رہا ہے ....
میں نے جوتا نکال کر دیکھا .....
میری ایڑی سے تھوڑا سا خون رس آیا تھا ...
جوتے کی کوئی کیل نکلی ہوئی تھی، درد تو ہوا پر غصہ بہت تھا ..
اور مجھے جانا ہی تھا گھر چھوڑ کر ...
جیسے ہی کچھ دور چلا ....
مجھے پاوں میں گیلا سا محسوس ہوا، سڑک پر پانی پھیلا ہوا تھا ....
پاؤں اٹھا کے دیکھا تو جوتے کے تلوےپھٹے ہوئے تھے .....
جیسے تیسے لنگڑا لنگڑاكر بس سٹاپ پہنچا تو پتہ چلا بس ایک گھنٹہ لیٹ ہے۔۔۔
میں نے سوچا کیوں نہ پرس کی تلاشی لی جائے ....
پرس کھولا، ایک پرچی دکھائی دی، لکھا تھا ..
لیپ ٹاپ کے لئے 40 ہزار قرضے لئے
پر لیپ ٹاپ تو گھر میں صرف میرے پاس ہے؟
دوسری ایک چٹ مڑی تڑی دیکھی، اس میں ان کے آفس کی کسی شوق ڈے کا لکھا تھا
انہوں نے شوق لکھا "اچھا جوتے پہننا" ......
اوہ .... اچھے جوتے پہننا ؟؟؟
پر انکے جوتے تو ........... !!!!
ماں گزشتہ چار ماہ سے ہر پہلی کو کہتی کہ نئے جوتے لے لیجئے ...
اور وہ ہر بار کہتے "ابھی تو 6 ماہ جوتے اور چل چاینگے .."
میری سمجھ میں آب آیا کہ کیسے چل جایئینگے
...... تیسری پرچی ..........
پرانا سکوٹر دیجئے ایکسچینج میں نئی موٹر سائیکل لے جائیں ...
پڑھتے ہی دماغ گھوم گیا .....
پاپا کا سکوٹر .............
اوه خدایا
میں گھر کی طرف بگٹٹ بھاگا ........
اب پاوں میں وہ کیل نہیں چبھ رہی تھی ....
گھر پہنچا .....
نہ پاپا تھے نہ سکوٹر ..............
اوه نو
میں سمجھ گیا کہاں گئے ....
میں بھاگا .....
اور
ایجنسی پر پہنچا ......
پاپا وہیں تھے ...............
میں نے ان کو گلے سے لگا لیا، اور آنسووں سے ان کا کندھا بھیگ گیا ..
..... نہیں ... پاپا نہیں ........ مجھے نہیں چاہئے موٹر سائیکل ...
بس آپ نئے جوتے لے لو اور مجھے اب بڑا آدمی بننا ہے ..
وہ بھی آپ کے طریقے سے .....
۔
"ماں" ایک ایسی بینک ہے جہاں آپ ہر احساس اور دکھ جمع کر سکتے ہیں ...
اور
"پاپا" ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جو بیلنس نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خواب
پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے.

Meet me at Facebook
Http://www.Facebook.com/zebtext

Thursday, 17 March 2016

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ

ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔
اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کریں۔
وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔
پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔
دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔
اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔
اور تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی۔ اس کے اندر کیا ہے، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔
یہی سوچ کر وزیر تھیلے میں گھاس پُھوس اور پتے بھر لیے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا۔
دوسرے دن بادشاہ تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت 1 ماہ کے لیے دوردراز جیل میں قید کر دو۔
اب اس دوردراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا، سواۓ اس تھیلے کے جو انھوں نے جمع کیا تھا۔
اب پہلا وزیر جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیے تھے، وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پر گزارہ کرتا رہا۔
یہاں تک کے 1 ماہ باآسانی گزر گیا۔
اور دوسرا وزیر جس نے بغیر دیکھے تازہ خراب تمام پھل جمع کیے تھے۔ اس کے لیے بڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے، جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہوگیا اور اسے بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔
اور تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس پُھوس ہی جمع کیا تھا۔
وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیا کیونکہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔
اب
آپ اپنے آپ سے پوچھیے
آپ کیا جمع کر رہے ہیں ؟
آپ اس وقت اس باغ میں ہیں۔
جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لیے جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال؟
مگر یاد رہے جب بادشاہ کا حکم صادر ہوگا،
تو آپ کو اپنی جیل قبر میں ڈال دیا جاۓ گا۔

اس جیل میں آپ اکیلے ہونگے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال کی تھیلی ہوگی۔ تو جو آپ نے جمع کیا ہوگا، وہی آپ کو وہاں کام دے گا۔
تو آج تھوڑی سی محنت کرکے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرلیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں۔.

ابھی ہمارے پاس وقت بھی ہے اور اللہ پاک نے سب معذریوں سے بھی دور رکھا ہے اسے دن میجں پانچ بار تو یاد کر لیا کرو بڑے بڑے اعمال کرنے کی وہ خود ہی توفیق عطا کر دے گا

اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐