Sunday, 7 August 2016

یوسف یوحنا سے محمد یوسف تک کا سفر:


***********************
ہماری رہائش ریلوے کالونی گڑھی شاہو لاہور میں تھی ۔یہاں میرے ہم مذہبوں کے بھی گھرتھے لیکن زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔ اتفاق کی بات کہیے کہ میرا زیادہ اٹھنا بیٹھنا ملنا جلنا اور کھیلنا کودنا بھی مسلمان لڑکوں کے ساتھ ہی تھا ۔سچی بات یہ ہے کہ وہ بھی مجھے اپنے جیسے ہی لگتے تھے ۔مسلمانوں کے ہاں مجھے کوئی ایسی خاص خوبی یا امتیازی بات نظر نہیں آتی تھی کہ میرے دل میں مسلمان ہونے کا شوق پیدا ہوتا ،مسلمانلڑکوں کے مشغلے بھی میرے جیسے ہی تھے۔ ایف سی کالج میں پڑھائی کے دوران میری دوستی ایک ہم جماعت لڑکے جاوید انور سے قائم ہوئی وہ کرکٹ کے سپرسٹار اور ہمارے سینئر ساتھی سعید انور کا چھوٹا بھائی ہے۔ میں نے زندگی بھر اس جیسا لڑکا نہیں دیکھا ۔میں اسے ملنے سعید بھائی کے گھر جاتارہتا تھا ۔سعید بھائی تو 1989ء سے قومی ٹیم میں تھے ،میں کوئی نوسال بعد 1998ء میں ٹیم میں آیا ۔وہاں اکثر ایک سابق کرکٹر ذوالقرنین حیدر آجاتے تھے جو تبلیغی جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ نیکی اور نماز روزے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت سعید بھائی کو ایسی باتوں کی لگن نہ تھی ۔اکثر جب ذوالقرنین حیدر یا تبلیغ والے دوسرے لوگ آتے تو سعید بھائی مجھے باہر بھیج دیتے کہ کہہ آئو کہ سعید گھر پر نہیں ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت مذہب کی طرف آنے لگی ۔تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے بھی ان کا میل جول بڑھ گیا۔ اپنی بیٹی کی وفات کے بعد وہ مکمل طورپر مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اکثر تبلیغی دوروں پر رہنے لگے ۔وہ مجھے کہتے تھے ’’یوسف ہرروز سونے سے پہلے یہ دعا مانگا کرو۔‘‘ اے خدا!مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا… سعید بھائی نے مجھے ان دنوں کبھی یہ نہ کہا کہ مسلمان ہوجائو ہمیشہ اس دعا کی تلقین کرتے رہے۔ میں سعید بھائی کی نصیحت کے مطابق ہمیشہ سونے سے پہلے یہ دعا مانگتا رہا ۔میں نے سعید بھائی میں آنے والی تبدیلیوں کو بڑے غور سے دیکھا اور بہت متاثر ہوا ،

پھر ایک عجیب بات ہوئی ۔میرا ایک دوست ہے وقار احمد، بڑی پرانی دوستی ہے ہماری ، یہ تین سال پہلے کی بات ہے میں حسب معمول رات کو یہ دعا مانگ کر سوگیا کہ ’’اے خدا مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا‘‘ رات میں نے خواب میں اپنے دوست وقار کو دیکھا وہ خوشی خوشی میرے پاس آیا اور کہنے لگا’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو‘‘ میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔آنکھ کھلنے پر میں یہ سوچتا رہا کہ کیا واقعی اللہ نے مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھادیا ہے۔ وقار شیخوپورہ کا رہنے والا ہے۔ اتفاق دیکھئے کہ انہی دنوں پی آئی اے اور نیشنل بینک کے درمیان میچ کیلئے شیخوپورہ کرکٹ گرائونڈ تجویز ہوا۔ میں پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا تھا ۔شیخوپورہ پہنچا تو میرا وہی دوست وقار احمد مجھ سے ملنے آگیا۔ وہی خواب والی وضع قطع ، میں اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے بالکل اسی انداز سے مجھ سے پوچھا ’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو؟‘‘میں اس کا منہ دیکھنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ نے مجھے اشارہ دے دیا ہے کہ حق کا راستہ کیا ہے ۔

شام کو میں شیخوپورہ سے لاہور آیا تو سیدھا کیولری گرائونڈ سعید بھائی کے پاس چلا گیا یہ اکتوبر 2002ء کا ذکر ہے ۔میں نے سعید بھائی سے کہا ’’میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں‘‘ سعید بھائی نے مجھے گلے سے لگالیا مجھے کلمہ پڑھایا اور میری دنیا بدل گئی۔ اس دوران میں جب بھی رائے ونڈ جاتا اور حاجی عبدالوہاب صاحب سے پوچھتا کہ اب مجھے اسلام قبول کرلینے کا اعلان کردینا چاہئے تو وہ کہتے ’’نہیں ابھی نہیں‘ شاید انہیں میری شکل دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ ابھی میں اس لائق نہیں ہوا ۔میری مولوی فہیم صاحب اور طارق جمیل صاحب سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انضمام بھائی کو پتہ چلا تو انہوں نے بڑی شفقت کی ۔ جون 2005ء میں کرکٹ ٹیم کچھ میچ کھیلنے سعودی عرب گئی ۔میچ تو نہ ہوئے البتہ ٹیم نے عمرہ کیا ۔اس سے کوئی ڈیڑھ دومہینہ پہلے میری بیوی بھی اسلام قبول کرچکی تھی میں نے اسے آزادی دی تھی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔ پوری ٹیم نے عمرہ کیا لیکن میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوا کیونکہ ابھی تک میں نے مسلمان ہونے کا کھلا اعلان نہیں کیا تھا لیکن مجھے سخت بے تابی تھی کہ عمرے کی سعادت حاصل کروں ۔ میری بیوی بھی میرے ہمراہ تھی ۔ اب وہ تانیہ کی بجائے فاطمہ ہوچکی تھی۔رائے ونڈ سے مولوی فہیم صاحب نے مکہ میں موجود عالمگیر صاحب کے ذمہ لگایا اور وہ رات گئے ہم دونوں کو حرم شریف لے گئے ہم نے عمرہ ادا کیا ، یہ اللہ کا بہت بڑا کرم تھا۔ رات کے پچھلے پہر شروع ہونے والا عمرہ صبح پانچ بجے ختم ہوا۔ میں نے اسی وقت مولوی فہیم صاحب کو فون کیا انہوں نے حاجی عبدالوہاب صاحب سے ذکر کیا جنہوں نے مجھے قبول اسلام کا اعلان کرنے کی اجازت دے دی۔ پاکستان واپس آتے ہی میں نے اعلان کردیا ۔اسے اتفاق یا قدرت کا انعام کہیے کہ میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام بھی مسلمانوں والے رکھے تھے۔ بیٹی کا نام انیقہ یوسف اور بیٹے کا نام دانیال یوسف ہے ۔میرے قبول اسلام پر والد صاحب نے برہمی کا اظہار نہیں کیا والدہ کچھ رنجیدہ ہوئیں لیکن اب سب کچھ معمول پر آرہا ہے میں اللہ سے دعا گورہتا ہوں کہ وہ میرے پورے خاندان کو حق اور سچ کا راستہ دکھادے۔ آمین۔
------------------------------

Saturday, 30 July 2016

حضرت یونس (ع) مچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے ؟؟


ڈاکٹر امروز جان ولسن فیلو کوئز کالج آکسفورڈ نے حضرت یونس (ع) کے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنے کے بارے میں ایک مقالہ تھیولوجیکل ریویو میں تحریر کیا ہے
وہ لکھتے ہیں کہ 1890 میں ایک جہاز فاک لینڈ کے قریب وہیل مچھلی کا شکار کر رہا تھا ۔ اسکا ایک شکاری جیمس سمندر میں گر پڑا اور ایک وہیل مچھلی نے اسے نگل لیا۔ بڑی کوشش کے بعد وہ مچھلی دو روز بعد پکڑی گئی ۔ اسکا پیٹ چاک کیا گیا تو شکاری زندہ نکلا ۔ البتہ اسکا جسم مچھلی کی اندرونی تپش کی وجہ سے سفید ہو گیا تھا ۔ دو ہفتے کے علاج کے بعد وہ بلکل صحت مند ہو گیا ۔
1958 میں " ستارہ مچھلی " نام جہاز فاک لینڈ میں ہی مچھلیوں کا شکار کر رہا تھا کہ اسکا "بارکلے " نامی ملاح سمندر میں گر پڑا جسے ایک وہیل نے نگل لیا ۔ اتفاقً وہ مچھلی پکڑی گئی ۔ پورا عملہ اسے کلہاڑیوں سے کاٹنے لگا ۔ دوسرے دن بھی یہ کام جاری تھا کہ مردہ مچھلی کے پیٹ میں حرکت محسوس ہوئی ۔ اسکا پیٹ چیرا گیا تو انکا ساتھی بارکلے نکلا جو تیل اور چربی میں لتھڑا ہوا تھا ۔ بارکلے کو دو ہفتوں بعد ہوش آیا اور اپنی بپتا سنائی ۔
بارکلے کے متعلق یہ خبر اخبارات و جرائد میں چھپی تو علم و سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا ۔ بہت سے لوگوں نے انٹرویو لیے ۔ ایک مشہور سائنسی رسالے کے ایڈیٹر مسٹر ایم ڈی پاول نے تحقیق کے بعد لکھا کہ ۔ " اس حقیقت کے منکشف ہونے کے بعد میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت یونس (ع) کے متعلق آسمانی کتابوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف صحیح ہے " ۔
1992 میں آسٹریلیا کا 49 سال ماہی گیر ٹورانسے کائس وہیل مچھلی کے پیٹ میں 8 گھنٹے رہنے کے بعد معجزانہ طور پر بچ گیا ۔ وہ بحرہند میں ایک چھوٹے ٹرالر پر مچھلیاں پکڑ رہا تھا کہ سمندر کی ایک بڑی لہر اسکے ٹرالر کو بہا لے گئی ۔ وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں ہاتھ پاؤں مارتا رہا ۔
اسی اثنا میں اسے یوں لگا جیسے کئی شارک مچھلیاں اسکی طرف بڑھ رہی ہوں ۔ جلد ہی اسے معلوم ہوا کہ دراصل وہ ایک بہت بڑی وہیل مچھلی کی زد میں ہے جو منہ کھولے اسکی طرف بڑھ رہی ہے ۔ وہیل نے اسے اپنے منہ میں دبا لیا لیکن اسکی خوش قسمتی تھی کہ وہ جبڑوں میں ہی چمٹا رہا ۔ وہیل اسکو مسلسل نگلنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ برابر مزاحمت کرتا رہا جسکی وجہ سے اسکی اکسیجن مل رہی تھی اور وہ زندہ تھا ۔ 8 گھنٹے کی اس جدوجہد کے بعد جبکہ وہ نیم بے ہوش ہوچکا تھا اس نے خود کو اسٹریلیا کے ایک ساحل پر پایا ۔
دراصل مچھلی نے نگلنے میں ناکامی پر اس اگل دیا تھا یوں اسکی جان بچ گئی ۔
ان سب نے یہ بات کی تھی کہ مچھلی کے پیٹ میں تہہ بہ تہہ تاریکی تھی اور وہاں سانس لینے میں کوئی مشکل نہ تھی ۔! قرآن میں اللہ حضرت یونس (ع) کے بارے میں فرماتے ہیں ۔۔۔! " آخر اس نے تاریکیوں میں پکارا " نہیں ہے کوئی خدا مگر تو ، پاک ہی تیری ذات ، بے شک میں نے قصور کیا " ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اللہ ہمارے ایمان و یقین کو کامل کرے ۔ آمین

Wednesday, 20 July 2016

ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ***

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ " ﺍﻣﯿﺪ " ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮩﯿﻠﯽ " ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ " ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺎﮌ ﭘﺮ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ . ﭘﮩﺎﮌ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ " ﻣﺤﻨﺖ " ﺗﮭﺎ . ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ " ﺷﮏ " ﺗﮭﺎ . ﺍﺱ ﻣﯿﮟ "ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ " ﻧﺎﻣﯽ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮﻧﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ . "ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ " ﻧﮯ " ﺍﻣﯿﺪ " ﮐﻮ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮩﺮﮮ ﺩﺍﺭ "ﻭﮨﻢ " ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ " ﺍﻣﯿﺪ " ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ "ﺷﮏ " ﮐﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ . ﯾﮩﺎﮞ " ﺍﻣﯿﺪ " ﮐﻮ " ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ " ﺍﻭﺭ " ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ " ﻣﻠﻨﮯ ﺁﺋﯿﮟ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ " ﺣﻮﺻﻠﮧ " ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ . " ﺍﻣﯿﺪ " ﻧﮯ " ﺣﻮﺻﻠﮧ " ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ..... " ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﮑﻠﻮﮞ،،؟؟ " ﺣﻮﺻﻠﮧ " ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .... "ﺑﮩﻦ ﮔﮭﺒﺮﺍﺅ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺑﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ "ﺍﺭﺍﺩﮮ " ﻧﮯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺐ ﭼﺎﺑﯽ ﮔﮭﻤﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ . ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ " ﻭﮨﻢ " ﺍﻭﺭ "ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ " ﮈﺭ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ . " ﺍﻣﯿﺪ " ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ " ﺣﻮﺻﻠﮧ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ . ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ "ﻣﺼﯿﺒﺖ " ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﺎﮞ ﻣﻠﯿﮟ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ " ﮨﻤﺖ " ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﻗﺪﻣﯽ ﮐﯽ . ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺟﮩﺎﮞ "ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ " ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ . ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﯿﮟ . " ﺍﻣﯿﺪ " ﻧﮯ "ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ " ﺳﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ . " ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ " ﺑﻮﻟﯽ ... " ﺑﮩﻦ ! ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﻧﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ "ﺣﻮﺻﻠﮯ " ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﻧﺎ...!!!