Sunday, 28 August 2016

علامہ جلال الدین  رومی سے چند سوالات

علامہ جلال الدین  رومی سے چند سوالات پوچھے گئے ۔ جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

*1- زہر کسے کہتے ہیں؟*
ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔

*2- خوف کس شئے کا نام ہے؟*
غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

*3- حسد کسے کہتے ہیں؟*
دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے۔

*4- غصہ کس بلا کا نام ہے؟*
جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔

*5- نفرت کسے کہتے ہیں ؟*
کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں قبول کرلیں، تو اسے محبت کہیں گے۔

Saturday, 20 August 2016

راشد منہاس کا 45 واں یوم شہادت


وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے والے پاک فضائیہ کے شاہین راشد منہاس کا 45 واں یوم شہادت آج بھر پور انداز میں منایا جا رہا ہے۔

پاک فضائیہ کے آفیسر پائلٹ راشد منہاس سترہ فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے جامعہ کراچی سے ملٹری ہسٹری اینڈ ایوی ایشن ہسٹری میں ماسٹرز کیا۔

راشد منہاس نے تیرہ مارچ 1971 کو پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی۔

بیس اگست 1971 کو T-33 ٹرینر کی پرواز میں فلائٹ لیفٹنینٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا، مطیع نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے نوجوان پائلٹ پرضرب لگائی اور طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ لیا۔

طیارہ ہندوستان کی جانب رواں دواں تھا کہ اس اثناء میں راشد منہاس کو ہوش آگیا اور انہیں اندازہ ہوگیا کہ طیارہ اغواء کرلیا گیا ہے۔

راشد منہاس نے اس موقع پر پی اے ایف مسرور بیس میں صبح ساڑھے گیارہ کے قریب رابطہ کیا اور طیارے کے اغواء سے متعلق آگاہ کیا۔

اس موقع پر راشد اور مطیع کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی اور انہوں نے مطیع کو اس کے مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا اور طیارہ ہندوستان کی سرحد سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر زمین بوس ہوا جہاں راشد منہاس نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔

راشد منہاس شہید نے اپنی جان قربان کرکے ملک کے دفاع اور حرمت کی لاج رکھ لی۔

ان کی بے مثال قربانی پر حکومت پاکستان نے انھیں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا اور اٹک میں قائم کامرہ ایئر بیس کو ان کے نام سے منسوب کردیا، قوم کوعظیم سپوت کی قربانی اور کارنامے پر ہمیشہ فخر رہے گا۔

Wednesday, 10 August 2016

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا

ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب  مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے  دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا  حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں....