Friday, 29 June 2018

چھوٹا کام بڑا فائده

_آم، جامن، آڑو، ،فالسہ۔ وغیرہ کا موسم اس وقت اپنے عروج پر ہے۔
اس سلسلے میں،  آپ سے درخواست ہے کہ......!!!!!!!

  *براہ کرم پھل کھانے کے بعد ان پھلوں کے بیج اور گھٹلیاں کوڑے🗑 میں مت پھینکیں

بلکہ.........!!!!!!!

ان کو دھو کر اپنی گاڑی وغیرہ میں رکھ لیں اور جب بھی کسی ایسی جگہ سے آپ کا گزر ہو،
جہاں پر درخت وغیرہ نہ ہوں، ان بیجوں اور گھٹلیوں کو وہاں پھینک دیں،یا ہائی ویز کی ساتھ ساتھ والی جگہوں پر پھینک دیں۔

چند دنوں کے بعد برسات کا موسم اپنا رنگ دکھائے گا اور آپ کے پھینکے ہوئے ان بیجوں میں سے زیادہ تر آگ آئیں گے

اور اللہ کے فضل سے درخت بھی بن جائیں گے۔

درخت نہ صرف صدقہ جاریہ ہیں بلکہ اس وقت پاکستان/دنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں،

ہمارا یہ چھوٹا سا عمل پاکستان/دنیا کو
ایک گرین پاکستان/دنیا بنانے کا پہلہ قطرہ ثابت ہو گا۔
اور یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کا فائدہ آئندہ آنے والی نسلوں کو ہو گا۔۔۔۔۔

Sunday, 1 January 2017

نفس کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟


( حافظ محمد زبیر کی ایک عمدہ و لاجواب تحریر )
--------------------------------
دوست نے سوال کیا ہے کہ نفس کو کنٹرول کیسے کیا جائے، نماز پڑھنا چاہتا ہوں لیکن کبھی تین پڑھ پاتا ہوں اور کبھی چار۔ ایک دوسرے دوست نے سوال کیا کہ فحش ویڈیوز دیکھنے سے بچنا چاہتا ہوں لیکن کبھی بچ پاتا ہوں اور کبھی دیکھ لیتا ہوں؟

جواب: نفس کے بارے ایک اہم بات ذہن میں رہے کہ یہ آپ کا اپنا ہے اور اپنا نہیں بھی ہے۔ یہ آپ کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی۔ اس میں ایک ضدی بچے سے لے کر ظالم دشمن تک کے تمام کردار موجود ہیں کہ جنہیں یہ بخوبی نبھاتا رہتا ہے۔ اس کا مقصد آپ کو گرانا نہیں بلکہ اپنا آپ منوانا ہے لہذا کچھ حکیمانہ تدابیر اختیار کر کے اسے با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ایک تدبیر تو یہ ہے کہ آپ اگر اپنے فرائض کی حفاظت چاہتے ہیں تو سنن کا اہتمام کریں، سنن کی حفاظت چاہتے ہیں تو نوافل کا اہتمام کریں۔ اس کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ اپنے ارد گرد فرائض، سنن اور نوافل کے دائرے بناتے چلیں جائیں کہ آپ کا دشمن شیطان اگر حملہ آور ہو گا تو سب سے باہر والا دائرہ متاثر ہو گا۔ اگر آپ نے شیطان سے حفاظت کے لیے اپنی ذات کے گرد دائرہ ہی صرف فرائض کا بنایا ہے تو اس کا حملہ ہی فرائض پر ہو گا اور متاثر بھی فرائض ہی ہوں گے۔

مثال کے طور اگر آپ تکبیر اولی کا اہتمام کرنے والے ہیں تو کبھی وہ رہ جائے گی لیکن جماعت مشکل سے ہی رہے گی۔ اور اگر آپ جماعت کی نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں تو کبھی وہ رہ جائے گی لیکن نماز مشکل سے ہی قضاء ہو گی۔ اور اگر آپ بس نماز وقت پر پڑھنے کا اپتمام کرتے ہیں، تو کبھی نماز قضاء ہو جائے گی اور کبھی اداء۔ اور اگر آپ صرف نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں تو کبھی نماز چھوٹ ہی جائے گی۔ بہت آسان ہے کہ اگر تہجد کے چھوٹنے پر افسوس کرنے والوں میں شامل ہیں تو ان شاء اللہ، نماز قضاء ہونے پر افسوس کرنے والوں میں سے نہیں ہوں گے۔

اسی طرح کی تدبیر معصیت میں بھی اختیار کریں۔ اگر فحش ویڈیوز سے بچنا چاہتے ہیں تو موویز اور ڈرامے دیکھنے بالکل بند کر دیں۔ اگر موویز اور ڈراموں سے بچنا چاہتے ہیں تو وقت گزاری کے لیے مزاحیہ ٹاک شوز وغیرہ دیکھنا بند کر دیں۔ اور ایسا مستقل طور کریں، تو ان شاء اللہ، ضرور فائدہ ہو گا۔ اب اگر شیطان کا حملہ ہو گا بھی تو سب سے باہر والے دائرے پر۔

دوسرا یہ کہ اپنے نفس کو یہ احساس دلاتے رہیں کہ اس کی مانی جا رہی ہے، یہ بہت ضروری ہے ورنہ تو وہ آپ کو گرانے کی پوری کوشش کرے گا اور اگر وہ اس کوشش میں لگ گیا تو گرنا آپ ہی کا مقدر ہے، اس کا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرتے رہیں تا کہ اسے اپنے غالب ہونے کا احساس باقی رہے۔ اگر نماز پڑھنے کو دل نہیں کر رہا تو اسے یہ کہیں کہ چلو پڑھ لو، اس کے بعد تجھے میگنم آئس کریم کھلاتا ہوں یا وہ کھلا دیں کہ جس سے وہ خوش ہوتا ہو، بس اسے یہ احساس ہو جائے کہ اس کی مانی گئی ہے۔ بھئی، یہ اپنی منوانے کے معاملے میں بیگم سے کم نہیں ہے، اچھی طرح سمجھ لو۔ اب بیوقوفوں کی طرح اس کی ہر بات مان لو یا اسے لولی پاپ دیتے رہو، یہ تمہاری عقلمندی اور سمجھداری پر منحصر ہے۔

Monday, 12 December 2016

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

وہ تیئیس سال کے مختصر عرصہ میں دنیا کو تبدیل کردینے والا
وہ فقر کو اختیار کرکے فقیروں کو غنی کرنے والا
وہ راتوں کو اُٹھ کر میرے اور آپ کیلیئے رونے والا
وہ سینکڑوں سال پہلے ہماری بخشش کیلیئے خدا سے گھنٹوں دعائیں مانگنے والا
وہ نماز میں کھڑے کھڑے پاؤں سُجا لینے والا
وہ ہنس کر روشنیاں بکھیرنے والا
وہ رو کر غم کو اپنے سینے میں سما لینے والا
وہ امت کے غم میں ہلکان ہوجانے والا
وہ چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر بےقرار ہونے والا
وہ آنکھوں سے انسان کو مسحور کردینے والا
وہ امام الانبیاء
وہ خاتم الرسل
وہ دنیا کا سب سے بڑا لیڈر
وہ دنیا کا سب سے عظیم استاد
وہ دنیا کا کامیاب ترین حکمران
وہ دنیا کا زیرک ترین سیاستدان
وہ بے مثال شوہر
وہ باکمال باپ
وہ قابل فخر نانا
وہ پیرِ کامل
وہ جس کی محبت مری رگ رگ میں شامل
وہ چلے تو فاصلے سمٹ کر معراج بن جائیں
وہ رکے تو زمانہ سانس لینا بھول جائے
وہ قدرت پا لینے کے بعد غلاف کعبہ پکڑ کر جانی دشمنوں کو معاف کرنے والا
وہ پتھر کھا کھا کر دعائیں دینے والا
وہ بادشاہ ہو کر بھی عامی کی زندگی گزارنے والا
وہ قاسم ہو کر بھی پیٹ پر پتھر باندھنے والا
وہ چاند کے دو ٹکڑے کرنے والا
وہ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا
وہ یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے والا
وہ بن ماں باپ کے بچے کو اپنا بچہ بنا لینے والا
وہ دشمنوں کو زیر کرنے والا
وہ پیار کرنے والا
وہ شافع میرا آخری سہارا
وہ میری آخری امید
میری منزل
میرا پیار
میری جان، میرا مال، میرا لہو، میرے ماں باپ، میری زندگی اس پر قربان
وہ جس کی تعریف ممکن نہیں
وہ جس کی توصیف کی ہمت نہیں
میرا نبی
میرا فخر
سرور کونین
وجہِ کائنات
محمد مصطفیٰ
صلی اللہ علیہ وسلم
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر