Monday, 12 December 2016

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

وہ تیئیس سال کے مختصر عرصہ میں دنیا کو تبدیل کردینے والا
وہ فقر کو اختیار کرکے فقیروں کو غنی کرنے والا
وہ راتوں کو اُٹھ کر میرے اور آپ کیلیئے رونے والا
وہ سینکڑوں سال پہلے ہماری بخشش کیلیئے خدا سے گھنٹوں دعائیں مانگنے والا
وہ نماز میں کھڑے کھڑے پاؤں سُجا لینے والا
وہ ہنس کر روشنیاں بکھیرنے والا
وہ رو کر غم کو اپنے سینے میں سما لینے والا
وہ امت کے غم میں ہلکان ہوجانے والا
وہ چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر بےقرار ہونے والا
وہ آنکھوں سے انسان کو مسحور کردینے والا
وہ امام الانبیاء
وہ خاتم الرسل
وہ دنیا کا سب سے بڑا لیڈر
وہ دنیا کا سب سے عظیم استاد
وہ دنیا کا کامیاب ترین حکمران
وہ دنیا کا زیرک ترین سیاستدان
وہ بے مثال شوہر
وہ باکمال باپ
وہ قابل فخر نانا
وہ پیرِ کامل
وہ جس کی محبت مری رگ رگ میں شامل
وہ چلے تو فاصلے سمٹ کر معراج بن جائیں
وہ رکے تو زمانہ سانس لینا بھول جائے
وہ قدرت پا لینے کے بعد غلاف کعبہ پکڑ کر جانی دشمنوں کو معاف کرنے والا
وہ پتھر کھا کھا کر دعائیں دینے والا
وہ بادشاہ ہو کر بھی عامی کی زندگی گزارنے والا
وہ قاسم ہو کر بھی پیٹ پر پتھر باندھنے والا
وہ چاند کے دو ٹکڑے کرنے والا
وہ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا
وہ یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے والا
وہ بن ماں باپ کے بچے کو اپنا بچہ بنا لینے والا
وہ دشمنوں کو زیر کرنے والا
وہ پیار کرنے والا
وہ شافع میرا آخری سہارا
وہ میری آخری امید
میری منزل
میرا پیار
میری جان، میرا مال، میرا لہو، میرے ماں باپ، میری زندگی اس پر قربان
وہ جس کی تعریف ممکن نہیں
وہ جس کی توصیف کی ہمت نہیں
میرا نبی
میرا فخر
سرور کونین
وجہِ کائنات
محمد مصطفیٰ
صلی اللہ علیہ وسلم
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

Saturday, 10 December 2016

دنیا عبرت کی جگہ ہے تماشا نہیں ہے

جہاز میں موجود مسافر چلا رہے ہیں جب پائلٹ نے بتایا کہ موت قریب ہے،

جب طیارے میں سوار مسافروں کو بتایا گیا کہ اب دنیا سے آخرت کی طرف روانگی ہے، جہاز اب چترال سے اسلام آباد نہیں آج کی منزل کہیں اور ہے جہاں ہر کسی نے جانا ہے،

وہ چیخیں مسافروں کی آہیں سب اپنے آپ کو موت کی جانب جاتے ہوئے رو رہے ہیں کوئی کلمہ پڑھ رہا ہے کوئی اللہ کو یاد کر رہا ہے ایسی چیخیں نکل رہی ہیں اور کوئی ایسا مسافر نہیں ہے جو خاموش رہا ہو،

دوستو زندگی یہی ہے آپ جتنا جھوٹ بولیں جتنا فریب کریں لوگوں کو بلیک میل کرکے اپنے مقاصد حاصل کریں اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ  ڈالہ روزگار چھینیں شراب زناخوری چوری کریں

ظلم جبر کریں لیکن آپ تکبر میں اتنا آگے نکل جائیں گے کہ آپ کو توبہ اور کیے ہوئے گناہوں کی معافی مانگنا بھی نصیب نہیں ہوگی

آپ کا موت وقت پر لکھا گیا ہے ایک دن آپ نے اس فانی دنیا کو چھوڑنا ہوگا

پھر قبر ہوگی جہاں ہمارے اعمال سانپ بچھو بن کر ہمیں ہی ڈسیں گے پھر دوزخ ہوگی جہاں کی آگ ایسی ہے اگر اس آگ کا ایک انگارہ کرہ ارض پر گری تو پوری دنیا جل کر خاک بن جائے گی،

اللّہ نے سب کی موت لکھی ہوئی ہے مگر حادثے اور دیگر طریقوں سے اموات دیکر اللہ پاک ہمیں ہوشیار کرنا چاہتے ہیں کہ میرے بندی توبہ کریں
دنیا میں انصاف کریں کسی کا دل نہ دکھائیں

دعا کریں اللہ پاک حادثے کے شکار تمام مسافروں کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب کریں اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین،

Thursday, 8 December 2016

جنید جمشید  سے ملاقات

 "

جب وہ سے ثناخواں بنا"

طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں!
پہلی بار جب جنید جمشید  سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا!
مولانا صاحب! دولت ' حسن اور دنیا کی رنگینیاں میرے گرد رقص کررہی ہیں مگر مجھے دل کا سکون نہیں ملتا'بے چین رھتا ہوں'یوں لگتا ھے جیسے میں وہ کشتی ہوں جسکا کوئی کنارہ نہیں ھے' ایسا کیوں ھے؟
مولانا نے فرمایا! دیکھو جنید درد دائیں گھٹنے میں ھے دوا بائیں گھٹنے پہ لگاو گے تو درد ختم نہیں ھوگا'درد روح کا ھے اور تم دوا جسم کو دے رھے ہو' یہاں سے جنید کی زندگی میں انقلاب آیا پھر چند دن بعد مجھے جنید جمشید کی کال آئی!
کہا مولانا صاحب آج ایک پرانی مسجد کی ٹوٹی ھوئی چٹائی پہ لیٹا ھوں'خدا کی قسم بڑے محلات میں جو نہیں ملا وہ سکون آج یہاں محسوس کررھا ہوں-میں آج بہت خوش ھوں-
آہ وہ تو بہت خوش ھوکر گیا مگر کروڑوں دلوں کو جدائی کا درد دے گیا-
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ پاک جنید بھائی کو اپنی رحمت میں جگہ دے- آمین.